آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اخلاق پوری انسانیت کے لئے نمونہ ہیں
*آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق پوری انسانیت کے لئے نمونہ ہیں*
✍🏻افضال احمد ملّی
(پوار واڑی، مالیگاؤں ضلع ناسک)
*زندگیاں بیت گئیں اور قلم ٹوٹ گئے*
*تیرے اوصاف کا ایک باب بھی پورا نہ ہوا*
اس دنیا میں سب سے عظیم و مقدس ہستی، آمنہ کے لخت جگر، دائی حلیمہ کے نور نظر، سیدالرسل، خاتم النبیین، رحمۃ للعالمین حضرت محمد ابن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات ہے. آپ کے اوصاف حمیدہ اور اخلاقِ حسنہ کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے.
کسی شاعر نے کہا ہے :
*خوشبو ہے دو عالم میں تیری اے گُل چیدہ*
*کس منہ سے بیاں ہوں تیرے اوصافِ حمیدہ*
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں اللہ رب العزت نے سارا قرآن نازل فرمادیا۔ آپ کی ذات سے لے کر اخلاق و کردار تک، آپ کی گفتار سے لے کر اٹھنے، بیٹھنے، کھانے، پینے، چلنے پھرنے کی ایک ایک ادا تک کو قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔
سیرت طیبہ کو اہل ایمان کے لیے کامل اسوہ حسنہ، اورخوبصورت ماڈل قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
*لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اﷲِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ*
( تمہارے لیے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات میں نہایت ہی حسین نمونہ ہے۔)
(الاحزاب، 33: 21)
گویا زندگی گزارنے کا جامع ضابطہ حیات اگر کوئی ہے تو وہ محمد رسول اللہ کی مبارک زندگی ہی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے کائنات میں نہ کوئی آپ جیسا کامل انسان بنایا ہے نہ بنائے گا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نبوت و رسالت کی تکمیل ہی نہیں ہوئی بلکہ تمام کمالات انسانی، اوصاف اور اخلاق کی تکمیل بھی بدرجہ اتم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر ہوچکی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اوصاف و کمالات کا ایسا رنگ چڑھایا کہ آپ کو تمام عمدہ صفات اور بلند اخلاق کا مظہر اتم بناکر بھیج دیا اور آپ کے اخلاق کی اس بلندی کی خود اللہ تعالیٰ نے گواہی دی اور فرمایا:
*وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ*
’’اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں (یعنی آدابِ قرآنی سے مزّین اور اَخلاقِ اِلٰہیہ سے متّصف ہیں)۔‘‘
(القلم، 66: 4)
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بعثت کا مقصد ہی اخلاق کی تکمیل قرار دیتے ہوئے فرمایا:
*بعثت الیکم لاتمم مکارم الاخلاق*
’’میں اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ شریفانہ اخلاق کی تکمیل کروں۔‘‘
(الموطا کتاب حسن الخلق، ص: 756)
جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کی بابت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا:
’’ آپ کے اخلاق قرآن کریم ہے۔‘‘
اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کا آئینہ قرآن کریم ہے اس میں بہت سے راز مضمر ہیں۔ لہذا انہوں نے یہ فرمایا کہ آپ کے اخلاق قرآن کا آئینہ ہیں یہ ان کے وسعت علم اور ادب کا ثبوت ہے۔
تو جس ہستی کے اخلاق باکمال کے عظمتوں اور رفعتوں کی گواہی خود رب کائنات نے دی ہے جس کا خلق ہی قرآن قرار پایا اس کے اخلاقی اوصاف کے بارے میں کچھ مزید کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے.
اللہ رب العزت نے عمدہ اخلاقی صفات اپنے محبوب کیلئے قرآن مجید میں بیان فرماکر ثابت کردیا کہ اے میرے حبیب اے میرے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیری ذات و صفات تک میں خود رب ہوکر درود پڑھتا ہوں اور اے حبیب اس درود کے صدقے سے میں رحمتیں نازل کرتا ہوں حالانکہ تو ازل سے ہی رحمۃ للعالمین بناکر مبعوث فرمایا اور لمحہ لمحہ تیرے درجے بلند کرنے اور ذکر کو بلند کرنے کا ہم نے وعدہ کررکھا ہے۔ لہذا اب تیرے اخلاق اس قدر بلند و بالا ہوچکے ہیں، تیرے کردار کی عظمتیں اس سطح تک پہنچ چکی ہیں، کہ تیرے اخلاق پر ہم نے اخلاق الہٰیہ کا رنگ چڑھا دیا ہے اور تیری ذات کو صفات الہٰیہ کا مظہر اتم بنادیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
*لَقَدْ جَآئَکُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَئُوْفٌ رَّحِیْمٌ*
’’بے شک تمہارے پاس تم میں سے (ایک باعظمت) رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تشریف لائے۔ تمہارا تکلیف و مشقت میں پڑنا ان پر سخت گراں (گزرتا) ہے۔ (اے لوگو!) وہ تمہارے لیے (بھلائی اور ہدایت کے) بڑے طالب و آرزومند رہتے ہیں (اور) مومنوں کے لیے نہایت (ہی) شفیق بے حد رحم فرمانے والے ہیں۔‘‘
(التوبة، 9: 126)
درج بالا آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے رؤف اور رحیم جو کہ اس کے اپنے اسماء الحسنیٰ میں سے ہیں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بھی یہی الفاظ بیان فرماکر آپ کے اخلاق و صفات کی عظمت پر مہر ثبت کردی کہ اب دنیا میں اخلاق کردار کی اصلاح اور رہنمائی کے لیے اگر کسی کو ماڈل بنانا ہے تو صرف اور صرف محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات ہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ اخلاق اگر کسی کے ہیں تو محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہستی ہی ہے اب چونکہ اللہ تعالیٰ کو تو نہ کسی نے دیکھا ہے نہ کوئی دنیا میں دنیا کی آنکھ سے دیکھ سکتا ہے اس لئے اتباع کے لیے پیکر اخلاق حسنہ تمام بنی نوع انسانیت کے لیے حضور اقدس کی حیات مبارکہ کو ہی قرار دے دیا گیا۔
اللہ رب العزت نے سورہ آل عمران آیت 31 میں ارشاد فرمایا:
*قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اﷲَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اﷲُ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَاﷲُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ*
’’(اے حبیب!) آپ فرما دیں: اگر تم اﷲ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب اﷲ تمہیں (اپنا) محبوب بنا لے گا اور تمہارے لیے تمہارے گناہ معاف فرما دے گا، اور اﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘
(آل عمران، 3: 31)
اب اگر کوئی اللہ رب العزت کی محبت اور قربت کا طلبگار ہے تو اسے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرنا ہوگا،
کوئی اللہ کی بندگی پانا چاہتا ہے تو اسے پہلے اپنی گردن میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی کا پٹہ ڈالنا ہوگا، کوئی بارگاہ خدا تک رسائی چاہتا ہے تو پہلے بارگاہ رسالت مآب تک پہنچنا ہوگا،
کوئی اخلاق الہٰیہ کا طلبگار ہے تو اسے اخلاق مصطفی کے رنگ میں خود کو رنگنا ہوگا۔
پیغمبر اسلام دنیا کے کامل ترین انسان ہیں کیونکہ زندگی میں بیک وقت اس قدر جامع اور متنوع اوصاف آپ میں نظر آتے ہیں جو کسی ایک انسان میں تاریخ نے کبھی یکجا نہیں دیکھے اور یہ کمالات اور اوصاف کسی میں کبھی یکجا نہ ہوئے ہیں اور نہ ہوسکتے ہیں۔
*حسن یوسف، دم عیسیٰ ید بیضا داری*
*آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری*
ایک شخص حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرنے آیا لیکن رعب نبوت سے کانپنے لگا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا گھبراؤ نہیں میں بادشاہ نہیں ہوں میں تو ایک قریشی عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت پکا کر کھایا کرتی تھی۔
الغرض اخلاق کی تمام اعلیٰ خوبیاں اور اوصاف حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں اور آپ کی سیرت مطہرہ ان تمام اخلاقی صفات کا جامع پیکر نظر آتی ہیں جو تاریخ میں کسی ایک انسان میں کبھی یکجا نہیں دیکھے۔
یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارک ہی ہے کہ جن کی برکت سے انسان ظلمتوں اور تاریکیوں میں بھٹکنے کی بجائے صراط مستقیم پر آئے اور روشن راہوں پر گامزن ہوکر معرفتِ الہٰی کے جام پیئے جن کے ذریعے دولت ایمان ملی اور جن کے ذریعے عرفان حق نصیب ہوا۔ جن کا وجود ہر نعمت کی تخلیق اور فروغ کا باعث بنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کو اللہ تعالیٰ نے *وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین* کہہ کر سارے جہان کے لئے سراپا رحمت قرار دے دیا۔
آپ تاجدار ختم نبوت کا تاج پہن کر آئے اور *لانبی بعدی* کا مژدہ جانفزا سنایا.
آپ کو اللہ رب العزت نے *انا اعطینک الکوثر* کہہ کر سارے خزانوں کی کنجیاں تھمادیں. آپ کا سینہ *الم نشرح* ہے تو چہرہ *والضحیٰ* اور زلفیں *واللیل* ہیں اور محبوبیت کا عالم یہ ہے کہ خود رب کائنات اس کے سارے فرشتے آپ پر درود و سلام بھیجتے ہیں۔ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ نبی ہیں کہ جن کا مقام مقامِ محمود ٹھہرا۔ جن کے ذکر کی رفعتوں کا عالم یہ ہے کہ *ورفعنالک ذکرک* کہہ کر جس کا ذکر ہر شے سے بلند کردیا جس کی نبوت و رسالت کو اتنی فضیلت عطا ہوئی کہ *انی رسول اللہ الیکم* تمام کائنات ارض و سماں کے لیے جو ہر زمانے اور دور کے انسانوں کے لیے پیغمبر آخرالزماں بن کر آئے، جن کی اطاعت اللہ کی اطاعت قرار پائی جن کی ہر ہر ادا اللہ کا امر اور فعل قرار پائی اورجن کے اخلاق کی بلندیوں کی گواہی خود رب کائنات نے *انک لعلی خلق عظیم* کہہ کر قرآن میں بیان فرمادی۔
آپ کی سیرت اور مبارک زندگی کا ہر لمحہ پیغمبرانہ ہے اللہ نے اپنی ذات کی اپنی توحید کی دلیل اگر کسی کو قرار دیا تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ ہے۔ سیرت محمدی سچائی اور دیانت داری کا ایسا پیکر ہے کہ دشمن بھی صادق اور امین کہنے پر مجبور ہوجائیں۔
مگر افسوس کہ جس امت کے نبی کی بعثت کا مقصد ہی مکارم اخلاق کی تکمیل قرار پایا ہو،
اس کی امت کا اخلاق و احوال نہایت پستی کی حالت اختیار کرچکا ہے۔
آج اغیار ہمارے نبی کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوکر انسانیت اور اخلاق کی عظیم مثالیں قائم کررہے ہیں آپ اقوام مغرب کو دیکھ لیجئے سچائی، راست بازی، محنت، عدل و انصاف اور اخوت و ہمدردی جیسے اعلیٰ اخلاقی اوصاف کا منہ بولتا ثبوت ہیں کسی کی ذاتیات میں دخل اندازی ہرگز نہیں کرتے محنت کو عار نہیں سمجھتے، اپنے کام کاج اپنے ہاتھوں سے کرتے ہیں۔ چوری، غیبت بلا اجازت کسی چیز کو استعمال کرنے کی عادت ہی ان میں نہیں پائی جاتی۔
آج اگر وہ دنیا میں کامیاب اور ترقی یافتہ ہیں تو یقینا یہ وہی اصول و ضوابط ہیں جو قرآن و سنت سے ماخوذ ہیں جنہیں رسول اللہ نے عملی زندگی میں کرکے دکھایا
آج بھی ترقی و کامرانی کا راز سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی میں ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے معاملات و معاشرت اور معیشت الغرض زندگی کے تمام پہلوؤں کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے اصولوں سے جوڑ لیں اور سیرت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کامل اسوہ حسنہ اور اپنے لیے بہترین ماڈل بناکر اپنی زندگی پر نبی کی سیرت کی چھاپ لگاکر غلامانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بن کر اپنی زندگیاں گزاریں۔
دو جہاں کی کامیابی گر تجھے درکار ہے
ان کا دامن تھام لے جن محمد نام ہے